وزیراعظم کے خواب، کرپشن کا خاتمہ، غربت مٹاؤ پروگرام، یکساں نظام تعلیم


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یقین رکھیں موجودہ حکومت کرپٹ نہیں،عوام کےپاس کھانےکونہیں اور ہم سرکاری پیسہ اڑائیں ایسا نہیں ہوگا، وزیراعظم ہاؤس نے تین ماہ میں پندرہ کروڑ ، گورنر کے پی نے تیرہ کروڑ بچالیے۔ 

حکومت کی سوروزہ کارکردگی پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قرضوں پر  چھ ارب روپے روزانہ کا سود دے رہے ہیں۔ کرپشن سےمتعلق ہرروزنیا انکشاف ہوتاہے۔چھبیس مما لک کے ساتھ اثاثوں کی ریکوری کیلئےمعاہدےکیے۔ہم بارہ ارب ڈالر کے پیچھے بھاگ رہے تھے ان ممالک سےپتہ چلا کہ پاکستانیوں کے گیارہ ارب ان ڈکلیئرڈ اثاثے پڑے ہیں، تین سو پچھتر ارب روپےکےجعلی اکاؤنٹس پکڑے گئے۔ یہ پہلی حکومت ہے جس نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کےلیے اقدامات کیے، اب منی لانڈرنگ کرنے والا بچ نہیں سکے گا۔سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ ہوگیا ہے، چند سال پہلے کے اکاؤنٹس کی تفصیلات منگوا رہے ہیں جبکہ پاناما سے پہلے کے اکاؤنٹ بھی منگوارہے ہیں، اقامے والوں کی ہمیں معلومات نہیں ملیں،دبئی والےاقامےوالوں کےبینک اکاؤنٹ نہیں بتاتے،پاکستانی شہریوں کےاکاؤنٹس کی معلومات دیتےہیں،اب پتہ لگاباہر کی بینکوں میں رکھا پیسہ چھپانےکیلئے اقامےلیےگئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن غربت پیدا کرتاہے، امیر اورغریب میں فرق ہی کرپشن پیداکرتی ہے،کرپشن کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئےہیں،میرا بنیادی پلان تھا کہ کرپشن کا خاتمہ ہو،کرپشن کی وجہ سےادارے تباہ ہوجاتے ہیں، اپنی چوری بچانے کیلئے ادارےکواستعمال کرکے اسے تباہ کردیاجاتاہے، پیسہ بنانے کیلئے اداروں کا استعمال کرتےہیں، مجھے تو پہلے پتہ ہی نہیں تھا کہ ملک میں اتنی چوری ہورہی ہے،پیسہ بنانے کیلئے ایف بی آر اور ایس ای سی پی کو تباہ کیاگیا، لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ کس لیول کی چوریاں ہوئی ہیں،وزیراعظم جب تک اداروں کو تباہ نہ کرے کرپشن نہیں کرسکتا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے بائیس سال اپوزیشن میں گزارے اس لیے آج بھی انہیں یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ وزیراعظم ہیں، سو دن میں صرف ایک چھٹی کی ہے، انسان کا کام صرف کوشش کرنا ہے کامیابی اللہ دیتا ہے۔ کوشش ہے کہ ایسی پالیسی بنے جس سےعام آدمی کوفائدہ ہو، چاہتےہیں پورےملک میں ایک ہی نظام تعلیم ہو،یکساں نظام تعلیم سےغریب کابچہ بھی پڑھ کر اوپر آسکتاہے، تعلیم پر ایک پورا پلان لیکر آرہےہیں۔ وزیراعظم نے صحت سے متعلق منصوبہ بندی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ نجی اسپتالوں میں امیروں کاعلاج ہوتاہے،سرکاری میں غریبوں کا،سرکاری اسپتالوں کوٹھیک کرنےکیلئےٹاسک فورس بنائی گئی ہے،پاکستان  میں غریب لوگوں کوصحت کارڈ دینے کا فیصلہ کیاہے، غریب آدمی کےگھرمیں بیماری آجائے تو پورا بجٹ خراب ہوجاتاہے۔

وزیراعظم عمران خان نے غربت مٹاؤ پروگرام لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غریبوں کیلئے پانچ ارب روپے سے گھر بنائیں گے،غربت کے خاتمے کیلئے ایک بہترین منصوبہ لیکر آرہےہیں، دیہاتوں میں غر بت بہت زیادہ ہے،دیہات میں غربت مٹاؤپروگرام لیکرآرہےہیں،چھوٹےکسانوں کوقرضےدیکران کی مددکرنی ہے، چھوٹےکسانوں کو سبسڈی دیں گےجس سےوہ اوپر آسکیں، ہم چھوٹےکسانوں کو لیز پر مشینیں دیں گے۔ چالیس  لاکھ بچوں کو نشوونما کے لیے غذا دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حلال گوشت کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا کوئی حصہ نہیں، حلال گوشت کی عالمی مارکیٹ تک رسائی کے لیے  سبسڈی دیں گے،  کسانوں کوجانورپالنےکیلئےپیسے دیں گے۔برآمدات بڑھانے کے لیے ہرممکن اقدامات کریں گے، پہاڑی علاقوں میں غربت کے خاتمے کے لیے   سیاحت کو فروغ  دیں گے۔ ہمارےپاس ایک ہزارکلومیٹرتک سمندرہےلیکن مچھلی کی برآمدات صفرہیں،فشریزکی صنعت پربہت کام کرنےوالےہیں،سیم والےعلاقوں میں جھینگا فارمنگ کی جاسکتی ہے،سب سےپہلےہمیں اپنامائنڈ سیٹ بدلناہے،جب تک اربوں روپےنہیں آتےتووہ چیزیں کرنا ہیں جو بغیر پیسوں کےہوں۔

1 تبصرہ:

  1. وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یقین رکھیں موجودہ حکومت کرپٹ نہیں،عوام کےپاس کھانےکونہیں اور ہم سرکاری پیسہ اڑائیں ایسا نہیں ہوگا، وزیراعظم ہاؤس نے تین ماہ میں پندرہ کروڑ ، گورنر کے پی نے تیرہ کروڑ بچالیے۔

    جواب دیںحذف کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.