آسیہ مسیح کی ملتان جیل سے رہائی


توہین رسالت کیس میں سپریم کورٹ سے اکتیس اکتوبر کو بری کی گئی آسیہ مسیح کو ملتان جیل سے رہا کردیا گیا۔ 

میڈیارپورٹس کے مطابق ملتان جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے سپریم کورٹ کے حکم کی روبکار جیل کو موصول ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد آسیہ بی بی کو رہا کردیا گیا ہے۔  تاہم زیر گردش رپورٹس کے مطابق نظر ثانی اپیل کے فیصلے تک آسیہ مسیح بیرون ملک نہیں جاسکتی۔ بتایا جاتا ہے کہ آسیہ بی بی  کو ملتان ائیرپورٹ سے راولپنڈی منتقل کردیا گیا ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر آسیہ مسیح کو سخت سیکیورٹی دی گئی ہے۔  



غیر ملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آسیہ بی بی ملتان جیل سے رہائی کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ بیرون ملک روانہ ہوگئی۔

سرکاری تردید


 دفترخارجہ نے آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی کی خبروں کی تردید کردی۔


 ترجمان دفتر خارجہ کہتے ہیں آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی کی خبروں میں صداقت نہیں۔ 


 ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق آسیہ بی بی پاکستان میں ہی موجود ہیں۔۔ آسیہ بی بی اب آزاد شہری ہیں، وہ عدالتی فیصلے کےبعدجہاں جاناچاہیں جا سکتی ہیں۔ 


 وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نےکہاآسیہ بی بی کامعاملہ انتہائی حساس نوعیت کاہے، ان کی ملک چھوڑنےکی جھوٹی خبریں چلاناغیرذمہ دارانہ ہے، سنسنی پھیلانےوالامخصوص میڈیاخبروں کےچناؤمیں ذمہ دارانہ رویہ اپنائے۔ 


 وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہا آسیہ بی بی پاکستان سے باہر نہیں گئیں۔ 




کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.